ناگپور ،26؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)کے سربراہ پروین توگڑیا نے ایودھیا میں متنازعہ مقام پر رام مندر کی تعمیر کے لئے قانون نہیں بنانے کو لے کر مرکز کی بی جے پی کی پالیسی پر ناراضگی ظاہر کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے پاس پاکستان کے وزیر اعظم سے ملنے کا وقت ہے لیکن ان کے بچپن کے دوست (توگڑیا)سے ملنے کا نہیں۔توگڑیا نے کہا کہ اگر رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازعہ کو عدالت کے ذریعے ہی حل کرنا تھا تو 1992میں تحریک کیوں ہوئی اور کیوں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ایودھیا معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہو رہی ہے۔توگڑیا نے کہا کہ رام مندر بنانے کے لئے عام رائے تیار کرنے کی خاطر تحریک ہوئی تاکہ مندر حامی حکومت اقتدار میں آئے اور اس کی تعمیر کے لئے قانون بنائے۔انہوں نے کہا کہ متنازعہ زمین اور ارد گرد کے 66 ایکڑ علاقے میں صرف ایک مندر ہی بن سکتا ہے۔توگڑیا نے کہا کہ بی جے پی نے 1987 میں اپنی پالمپورقومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں رام مندر کی تعمیر کے لئے پارلیمنٹ میں قانون منظور کرانے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن گزشتہ چار سال میں کوئی قانون منظور نہیں ہوا اور وزیر اعظم نریندر مودی اس معاملے پر خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے پہلے ہی میں نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا ہے کہ آپ پاکستان کے وزیر اعظم سے مل سکتے ہیں لیکن آپ کے پاس وقت نہیں ہے کہ اپنے بچپن کے دوست سے مل سکیں اور قومی مفاد کے معاملات پر بات چیت کریں۔